Sunday, 19 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 6541

حدثنا عمران بن ميسرة ،‏‏‏‏ حدثنا ابن فضيل ،‏‏‏‏ حدثنا حصين ،‏‏‏‏ ‏.‏ وحدثني أسيد بن زيد ،‏‏‏‏ حدثنا هشيم ،‏‏‏‏ عن حصين ،‏‏‏‏ قال كنت عند سعيد بن جبير فقال حدثني ابن عباس ،‏‏‏‏ قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عرضت على الأمم ،‏‏‏‏ فأخذ النبي يمر معه الأمة ،‏‏‏‏ والنبي يمر معه النفر ،‏‏‏‏ والنبي يمر معه العشرة ،‏‏‏‏ والنبي يمر معه الخمسة ،‏‏‏‏ والنبي يمر وحده ،‏‏‏‏ فنظرت فإذا سواد كثير قلت يا جبريل هؤلاء أمتي قال لا ولكن انظر إلى الأفق‏.‏ فنظرت فإذا سواد كثير‏.‏ قال هؤلاء أمتك ،‏‏‏‏ وهؤلاء سبعون ألفا قدامهم ،‏‏‏‏ لا حساب عليهم ولا عذاب‏.‏ قلت ولم قال كانوا لا يكتوون ،‏‏‏‏ ولا يسترقون ،‏‏‏‏ ولا يتطيرون ،‏‏‏‏ وعلى ربهم يتوكلون ‏"‏‏.‏ فقام إليه عكاشة بن محصن فقال ادع الله أن يجعلني منهم‏.‏ قال ‏"‏ اللهم اجعله منهم ‏"‏‏.‏ ثم قام إليه رجل آخر قال ادع الله أن يجعلني منهم‏.‏ قال ‏"‏ سبقك بها عكاشة ‏"‏‏.‏
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے ، کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور مجھ سے اسید بنزید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا کہ میں سعیدبنجبیر کی خدمت میں موجود تھا اس وقت انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابنعباس رضیاللہعنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ پوری امت گزری ، کسی نبی کے ساتھ چند آدمی گزرے ، کسی نبی کے ساتھ دس آدمی گزرے ، کسی نبی کے ساتھ پانچ آدمی گزرے اور کوئی نبی تنہا گزرا ۔ پھر میں نے دیکھا تو انسانوں کی ایک بہت بڑی جماعت دور سے نظر آئی ۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا کیا یہ میری امت ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ افق کی طرف دیکھو ۔ میں نے دیکھا تو ایک بہت زبردست جماعت دکھائی دی ۔ فرمایا کہ یہ ہے آپ کی امت اور یہ جو آگے آگے سترہزار کی تعداد ہے ان لوگوں سے حساب نہ لیا جائے گا اور نہ ان پر عذاب ہو گا ۔ میں نے پوچھا ، ایسا کیوں ہو گا ؟ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے ۔ دم جھاڑ نہیں کرواتے تھے ، شگون نہیں لیتے تھے ، اپنے رب پر بھروسہ کرتے تھے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عکاشہ بن محصن رضیاللہعنہ اٹھ کر بڑھے اور عرض کیا کہ حضور دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں کر دے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! انہیں بھی ان میں سے کر دے ۔ اس کے بعدایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ اس میں تم سے آگے بڑھ گئے ۔

No comments:

Post a Comment