حدثنا محمد بن سلام ، أخبرنا مخلد بن يزيد ، أخبرنا ابن جريج ، قال ابن شهاب أخبرني يحيى بن عروة ، أنه سمع عروة ، يقول قالت عائشة سأل أناس رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكهان فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليسوا بشىء ". قالوا يا رسول الله فإنهم يحدثون أحيانا بالشىء يكون حقا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تلك الكلمة من الحق يخطفها الجني ، فيقرها في أذن وليه قر الدجاجة ، فيخلطون فيها أكثر من مائة كذبة ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو مخلدبنیزید نے خبر دی ، کہا ہم کو ابنجریج نے خبر دی کہ ابنشہاب نے بیان کیا کہ مجھ کو یحییٰ بن عروہ نے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے سنا ، کہا کہ عائشہ رضیاللہعنہا نے بیان کیا کہ
کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کی ( پیشین گوئیوں کی ) کوئی حیثیت نہیں ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بات سچی بات ہوتی ہے جسے جن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی ( کاہن ) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے ۔ اس کے بعد کاہن اس ( ایک سچی بات میں ) سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں ۔
No comments:
Post a Comment