حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَفِينَا الْأَعْرَابِيُّ وَالْأَعْجَمِيُّ فَقَالَ اقْرَئُوا فَکُلٌّ حَسَنٌ وَسَيَجِيئُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ کَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ
وہب بن بقیہ، خالد، حمید، اعرج، محمد بن منکدر، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ اور ہم قرآن پڑھ رہے تھے۔ ہم میں اعرابی بھی تھے اور عجمی بھی (یعنی ان کی قرات درست نہ تھی اور وہ درست پڑھنے میں معذور تھے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (تم جس طرح بھی پڑھ سکتے ہو) پڑھو۔ تمھارا پڑھنا ٹھیک ہے عنقریب ایسے لوگ ہوں گے جو قرات قرآن کو اس طرح درست کریں گے جیسے تیر کو درست کیا جاتا ہے۔ (یعنی تجوید میں مبالغہ کریں گے۔) اور اس سے ان کا مقصد دنیا ہوگی دین نہ ہوگا۔
No comments:
Post a Comment