حدثنا مطر بن الفضل ، حدثنا شبابة ، حدثنا شعبة ، قال لقيت محارب بن دثار على فرس وهو يأتي مكانه الذي يقضي فيه فسألته عن هذا الحديث فحدثني فقال سمعت عبد الله بن عمر ـ رضى الله عنهما ـ يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جر ثوبه مخيلة ، لم ينظر الله إليه يوم القيامة ". فقلت لمحارب أذكر إزاره قال ما خص إزارا ولا قميصا. تابعه جبلة بن سحيم وزيد بن أسلم وزيد بن عبد الله عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال الليث عن نافع عن ابن عمر مثله. وتابعه موسى بن عقبة وعمر بن محمد وقدامة بن موسى عن سالم عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم " من جر ثوبه ".
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہاکہ
میں نے محارب بن دثار قاضی سے ملاقات کی ، وہ گھوڑے پر سوار تھے اورمکان عدالت میں آ رہے تھے جس میں وہ فیصلہ کیا کرتے تھے ۔ میں نے ان سے یہی حدیث پوچھی تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت عبداللہبنعمر رضیاللہعنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آپ اپنا کپڑا غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہوا چلے گا ، قیامت کے دن اس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر نہیں کرے گا ۔ ( شعبہ نے کہا کہ ) میں نے محارب سے پوچھا کیا حضرت ابنعمر رضیاللہعنہما نے تہمد کا ذکر کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ تہمد یاقمیص کسی کی انہوں نے تخصیص نہیں کی تھی ۔ محارب کے ساتھ اس حدیث کو جبلہ بن سحیم اورزید بن اسلم اور زید بنعبداللہ نے بھی حضرت عبداللہبنعمر رضیاللہعنہما سے روایت کیا ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ اورلیث نے نافع سے ، انہوں نے ابنعمر رضیاللہعنہما سے ایسی ہی روایت کی اورنافع کے ساتھ اس کو موسیٰ بن عقبہ اورعمر بنمحمد اور قدامہ بن موسیٰ نے بھی سالم سے ، انہوں نے ابنعمر رضیاللہعنہما سے ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اس میں یوں ہے کہ جو شخص اپناکپڑا ( ازراہ تکبر ) لٹکائے ۔
No comments:
Post a Comment