Friday, 17 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 5590

وقال هشام بن عمار حدثنا صدقة بن خالد ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا عطية بن قيس الكلابي ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا عبد الرحمن بن غنم الأشعري ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال حدثني أبو عامر ـ أو أبو مالك ـ الأشعري والله ما كذبني سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولينزلن أقوام إلى جنب علم يروح عليهم بسارحة لهم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ يأتيهم ـ يعني الفقير ـ لحاجة فيقولوا ارجع إلينا غدا‏.‏ فيبيتهم الله ويضع العلم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ويمسخ آخرين قردة وخنازير إلى يوم القيامة ‏"‏‏.‏
اور ہشام بن عمار نے بیان کیا کہ ان سے صدقہ بنخالد نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بنیزید نے ، ان سے عطیہ بنقیس کلابی نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے بیان کیا کہا کہ
مجھ سے ابوعامر رضیاللہعنہ یا ابو مالک اشعری رضیاللہعنہ نے بیان کیا اللہ کی قسم انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری ، ریشم کا پہننا ، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے ۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے ۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو ( ان کی سرکشی کی وجہ سے ) ہلاک کر دے گا پہاڑ کو ( ان پر ) گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا ۔

No comments:

Post a Comment