حدثني محمد بن كثير ، أخبرنا سفيان ، عن الأعمش ، عن إبراهيم ، عن علقمة ، قال كنا بحمص فقرأ ابن مسعود سورة يوسف ، فقال رجل ما هكذا أنزلت قال قرأت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أحسنت. ووجد منه ريح الخمر فقال أتجمع أن تكذب بكتاب الله وتشرب الخمر. فضربه الحد.
مجھ سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابراہیم نخعی نے ، ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ
ہم حمص میں تھے حضرت ابنمسعود رضیاللہعنہما نے سورۃ یوسف پڑھی تو ایک شخص بولا کہ اس طرح نہیں نازل ہوئی تھی ۔ حضرت ابنمسعود رضیاللہعنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تھی اور آپ نے میری قرآت کی تحسین فرمائی تھی ۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اس معترض کے منہ سے شراب کی بدبو آ رہی ہے فرمایا کہ اللہ کی کتاب کے متعلق جھوٹا بیان اور شراب پینا جیسے گناہ ایک ساتھ کرتا ہے ۔ پھر انہوں نے اس پر حد جاری کرا دی ۔
No comments:
Post a Comment