Friday, 17 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 4992

حدثنا سعيد بن عفير قال: حدثني الليث قال: حدثني عقيل ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن شهاب قال: حدثني عروة بن الزبير: أن المسور بن مخرمة وعبد الرحمن بن عبد القاري حدثاه: أنهما سمعا عمر بن الخطاب يقول: سمعت هشام بن حكيم يقرأ سورة الفرقان في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاستمعت لقراءته ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا هو يقرأ على حروف كثيرة لم يقرئنيها رسول الله صلى الله عليه وسلم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فكدت أساوره في الصلاة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فتصبرت حتى سلم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فلببته بردائه فقلت: من أقرأك هذه السورة التي سمعتك تقرأ؟ قال: أقرأنيها رسول الله صلى الله عليه وسلم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقلت: كذبت ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أقرأنيها على غير ما قرأت ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فانطلقت به أقوده إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقلت: إني سمعت هذا يقرأ بسورة الفرقان على حروف لم تقرئنيها ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أرسله ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اقرأ يا هشام). فقرأ عليه القراءة التي سمعته يقرأ ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (كذلك أنزلت). ثم قال: (اقرأ يا عمر). فقرأت القراءة التي أقرأني ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (كذلك أنزلت ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاقرؤوا ما تيسر منه).
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے لیثبنسعد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابنشہاب نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عروہبنزبیر نے بیان کیا ، ان سے مسور بنمخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت عمر بنخطاب رضیاللہعنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ، میں نے ہشام بن حکیم کو سورۃ الفرقان نماز میں پڑھتے سنا ، میں نے ان کی قرآت کو غور سے سنا تو معلوم ہوا کہ وہ سورت میں ایسے حروف پڑھ رہے ہیں کہ مجھے اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھایا تھا ، قریب تھا کہ میں ان کا سر نماز ہی میں پکڑ لیتا لیکن میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی چادر سے ان کی گردن باندھ کر پوچھا یہ سورت جو میں نے ابھی تمہیں پڑھتے ہوئے سنی ہے ، تمہیں کس نے اس طرح پڑھائی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی طرح پڑھائی ہے ، میں نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو ۔ خود حضور اکرم نے مجھے اس سے مختلف دوسرے حرفوں سے پڑھائی جس طرح تم پڑھ رہے تھے ۔ آخر میں انہیں کھینچتا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے اس شخص سے سورۃ الفرقان ایسے حرفوں میں پڑھتے سنی جن کی آپ نے مجھے تعلیم نہیں دی ہے ۔ آپ نے فرمایا عمر رضیاللہعنہ تم پہلے انہیں چھوڑ دو اور اے ہشام ! تم پڑھ کے سنا ؤ ۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی ان ہی حرفوں میں پڑھا جن میں میں نے انہیں نماز میں پڑھتے سنا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا کہ یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے ۔ پھر فرمایا عمر ! اب تم پڑھ کر سنا ؤ میں نے اس طرح پڑھا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تعلیم دی تھی ۔ آنحضرت نے اسے بھی سن کر فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ۔ یہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے ۔ پس تمہیں جس طرح آسان ہو پڑھو ۔

No comments:

Post a Comment