حدثنا إسماعيل ، حدثني أخي ، عن سليمان ، عن يحيى بن سعيد ، عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن القاسم بن محمد ، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت كان لأبي بكر غلام يخرج له الخراج ، وكان أبو بكر يأكل من خراجه ، فجاء يوما بشىء فأكل منه أبو بكر فقال له الغلام تدري ما هذا فقال أبو بكر وما هو قال كنت تكهنت لإنسان في الجاهلية وما أحسن الكهانة ، إلا أني خدعته ، فلقيني فأعطاني بذلك ، فهذا الذي أكلت منه. فأدخل أبو بكر يده فقاء كل شىء في بطنه.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے ، ان سے قاسم بنمحمد نے اور ان سے عائشہ رضیاللہعنہا نے بیان کیا کہ
حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کا ایک غلام تھا جو روزانہ انہیں کچھ کمائی دیا کرتا تھا اور حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ اسے اپنی ضرورت میں استعمال کیا کرتے تھے ۔ ایک دن وہ غلام کوئی چیز لایا اورحضر ت ابوبکر رضیاللہعنہ نے بھی اس میں سے کھا لیا ۔ پھر غلام نے کہا آپ کو معلوم ہے ؟ یہ کیسی کمائی سے ہے ؟ آپ نے دریافت فرمایا کیسی ہے ؟ اس نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شحص کے لیے کہا نت کی تھی حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی ، میں نے اسے صرف دھوکہ دیا تھالیکن اتفاق سے وہ مجھے مل گیا اور اس نے اس کی اجرت میں مجھ کو یہ چیز دی تھی ، آپ کھا بھی چکے ہیں ۔ حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ نے یہ سنتے ہی اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور پیٹ کی تمام چیزیں قے کر کے نکال ڈالیں ۔
No comments:
Post a Comment