Sunday, 12 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 3834

حدثنا أبو النعمان ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا أبو عوانة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن بيان أبي بشر ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن قيس بن أبي حازم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال دخل أبو بكر على امرأة من أحمس يقال لها زينب ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فرآها لا تكلم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال ما لها لا تكلم قالوا حجت مصمتة‏.‏ قال لها تكلمي ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإن هذا لا يحل ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ هذا من عمل الجاهلية‏.‏ فتكلمت ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقالت من أنت قال امرؤ من المهاجرين‏.‏ قالت أى المهاجرين قال من قريش‏.‏ قالت من أى قريش أنت قال إنك لسئول أنا أبو بكر‏.‏ قالت ما بقاؤنا على هذا الأمر الصالح الذي جاء الله به بعد الجاهلية قال بقاؤكم عليه ما استقامت بكم أئمتكم‏.‏ قالت وما الأئمة قال أما كان لقومك رءوس وأشراف يأمرونهم فيطيعونهم قالت بلى‏.‏ قال فهم أولئك على الناس‏.
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے ابو بشر نے اور ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ
ابوبکر رضیاللہعنہ قبیلہاحمس کی ایک عورت سے ملے ان کا نام زینب بنت مہاجر تھا ، آپ رضیاللہعنہ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کر تیں دریافت فرمایا کیا بات ہے یہ بات کیوں نہیں کرتیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ مکمل خاموشی کے ساتھ حج کرنے کی منت مانی ہے ۔ ابوبکر رضیاللہعنہ نے ان سے فرمایا اجی بات کرو اس طرح حج کر نا تو جاہلیت کی رسم ہے ، چنانچہ اس نے بات کی اور پوچھا آپ کون ہیں ؟ حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ نے کہا کہ میں مہاجرین کا ایک آدمی ہوں ۔ انہوں نے پوچھا کہ مہاجرین کے کس قبیلہ سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ قریش سے ، انہوں نے پوچھا قریش کے کس خاندان سے ؟ حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ نے اس پر فرمایا تم بہت پوچھنے والی عورت ہو ، میں ابوبکر ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا جاہلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں یہ دین حق عطافرمایا ہے اس پر ہم ( مسلمان ) کب تک قائم رہ سکیں گے ؟ آپ رضیاللہعنہ نے فرمایا اس پر تمہار ا قیام اس وقت تک رہے گا جب تک تمہار ے امام حاکم سید ھے رہیں گے ۔ اس خاتون نے پوچھا امام سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا کیا تمہاری قوم میں سردار اور اشراف لوگ نہیں ہیں جو اگر لوگوں کو کوئی حکم دیں تو وہ اس کی اطاعت کریں ؟ اس نے کہا کہ کیوں نہیں ہیں ۔ ابوبکر رضیاللہعنہ نے کہا کہ امام سے یہی مراد ہیں ۔

No comments:

Post a Comment