وقال الليث كتب إلى هشام عن أبيه ، عن أسماء بنت أبي بكر ـ رضى الله عنهما ـ قالت رأيت زيد بن عمرو بن نفيل قائما مسندا ظهره إلى الكعبة يقول يا معاشر قريش ، والله ما منكم على دين إبراهيم غيري ، وكان يحيي الموءودة ، يقول للرجل إذا أراد أن يقتل ابنته لا تقتلها ، أنا أكفيكها مئونتها. فيأخذها فإذا ترعرعت قال لأبيها إن شئت دفعتها إليك ، وإن شئت كفيتك مئونتها.
اورلیث بن سعدنے کہا کہ مجھے ہشام نے لکھا ، اپنے والد ( عروہبنزبیر ) سے اور انہوں نے کہا کہ ہم سے حضرت اسماء بنت ابیبکر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ
میں نے زیدبنعمرو بن نفیل کوکعبہ سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے کھڑے ہو کر یہ کہتے سنا ، اے قریش کے لوگو ! خدا کی قسم میرے سوا اور کوئی تمہارے یہاں دین ابراہیم پر نہیں ہے اور زید بیٹیوں کوزندہ نہیں گاڑتے تھے اور ایسے شخص سے جواپنی بیٹی کو مار ڈالنا چاہتاکہتے اس کی جان نہ لے اس کے تمام اخراجات کاذمہ میں لیتاہوں ، چنانچہ لڑکی کو اپنی پرورش میں رکھ لیتے جب وہ بڑی ہو جاتی تو اس کے باپ سے کہتے اب اگر تم چاہو تو میں تمہاری لڑکی کو تمہارے حوالے کرسکتاہوں اوراگرتمہاری مرضی ہو تو میں اس کے سب کام پورے کر دوں گا ۔
No comments:
Post a Comment