حدثني يوسف بن موسى ، حدثنا جرير ، عن الأعمش ، عن أبي صالح ، عن أبي سعيد ، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقول الله يا آدم. فيقول لبيك وسعديك والخير في يديك. قال يقول أخرج بعث النار. قال وما بعث النار قال من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعين. فذاك حين يشيب الصغير ، وتضع كل ذات حمل حملها ، وترى الناس سكرى وما هم بسكرى ولكن عذاب الله شديد ". فاشتد ذلك عليهم فقالوا يا رسول الله أينا الرجل قال " أبشروا ، فإن من يأجوج ومأجوج ألف ومنكم رجل ـ ثم قال ـ والذي نفسي في يده إني لأطمع أن تكونوا ثلث أهل الجنة ". قال فحمدنا الله وكبرنا ، ثم قال " والذي نفسي في يده إني لأطمع أن تكونوا شطر أهل الجنة ، إن مثلكم في الأمم كمثل الشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود أو الرقمة في ذراع الحمار ".
مجھ سے یوسف بن موسیٰ قطان نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوسعیدخدری رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم ! آدم علیہالسلام کہیں گے حاضر ہوں فرماں بردار ہوں اور ہربھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو ۔ آدم علیہالسلام پوچھیں گے جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔ یہی وہ وقت ہو گا جب بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرادیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھوگے ، حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا ۔ صحابہ کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر ہم میں سے وہ ( خوش نصیب ) شخص کون ہو گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو ، ایک ہزار یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے ۔ اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہلجنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے ۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہلجنت کا تم لوگ ہو گے ۔ تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی ( معمولی تعداد ) ہوتی ہے یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے ۔
No comments:
Post a Comment