حدثنا عمر بن حفص ، حدثنا أبي ، حدثنا الأعمش ، قال حدثني شقيق ، عن عبد الله ، قال كنا إذا صلينا مع النبي صلى الله عليه وسلم قلنا السلام على الله قبل عباده ، السلام على جبريل ، السلام على ميكائيل ، السلام على فلان ، فلما انصرف النبي صلى الله عليه وسلم أقبل علينا بوجهه فقال " إن الله هو السلام ، فإذا جلس أحدكم في الصلاة فليقل التحيات لله ، والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين. فإنه إذا قال ذلك أصاب كل عبد صالح في السماء والأرض ، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله. ثم يتخير بعد من الكلام ما شاء ".
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ
جب ہم ( ابتداء اسلام میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے ” سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے ، سلام ہو جبرائیل پر ، سلام ہو میکائیل پر ، سلام ہو فلاں پر ، پھر ( ایک مرتبہ ) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اللہ ہی سلام ہے ۔ اس لئے جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو ” التحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علیناوعلی عباد اللہ الصالحین ۔ “ الخ پڑھا کرے ۔ کیونکہ جب وہ یہ دعا پڑہے گا تو آسمان و زمین کے ہر صالح بندے کو اس کی یہ دعا پہنچے گی ۔ ” اشہد ان لا ا لٰہ ا لا اللہ واشہد ان محمد ا عبدہ ورسولہ “ اس کے بعد اسے اختیار ہے جو دعا چاہے پڑھے ۔ ( مگر یہ درود شریف پڑھنے کے بعد ہے )
No comments:
Post a Comment