Saturday, 18 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 6228

حدثنا أبو اليمان ،‏‏‏‏ أخبرنا شعيب ،‏‏‏‏ عن الزهري ،‏‏‏‏ قال أخبرني سليمان بن يسار ،‏‏‏‏ أخبرني عبد الله بن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال أردف رسول الله صلى الله عليه وسلم الفضل بن عباس يوم النحر خلفه على عجز راحلته ،‏‏‏‏ وكان الفضل رجلا وضيئا ،‏‏‏‏ فوقف النبي صلى الله عليه وسلم للناس يفتيهم ،‏‏‏‏ وأقبلت امرأة من خثعم وضيئة تستفتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فطفق الفضل ينظر إليها ،‏‏‏‏ وأعجبه حسنها ،‏‏‏‏ فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم ينظر إليها ،‏‏‏‏ فأخلف بيده فأخذ بذقن الفضل ،‏‏‏‏ فعدل وجهه عن النظر إليها ،‏‏‏‏ فقالت يا رسول الله إن فريضة الله في الحج على عباده أدركت أبي شيخا كبيرا ،‏‏‏‏ لا يستطيع أن يستوي على الراحلة ،‏‏‏‏ فهل يقضي عنه أن أحج عنه قال ‏"‏ نعم ‏"‏‏.‏
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہیں حضرت عبداللہبنعباس رضیاللہعنہما نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہماکو قربانی کے دن اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ۔ وہ خوبصورت گورے مرد تھے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگو ں کو مسائل بتانے کے لئے کھڑے ہو گئے ۔ اسی دوران میں قبیلہخثعم کی ایک خوبصورعورت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے آئی ۔ فضل بھی اس عورت کو دیکھنے لگے ۔ اس کا حسن وجمال ان کو بھلامعلوم ہوا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑکر دیکھا تو فضل اسے دیکھ رہے تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناہاتھ پیچھے لے جا کر فضل کی ٹھوڑی پکڑی اور ان کا چہرہ دوسری طرف کر دیا ۔ پھر اس عورت نے کہا ، یا رسول اللہ حج کے بارے میں اللہ کا جو اپنے بندوں پر فریضہ ہے وہ میرے والد پر لاگوہوتا ہے ، جو بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور سواری پر سیدھے نہیں بیٹھ سکتے ۔ کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کر لو ں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہو جائے گا ۔

No comments:

Post a Comment