Saturday, 18 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 6216

حدثنا مسدد ،‏‏‏‏ حدثنا يحيى ،‏‏‏‏ عن عثمان بن غياث ،‏‏‏‏ حدثنا أبو عثمان ،‏‏‏‏ عن أبي موسى ،‏‏‏‏ أنه كان مع النبي صلى الله عليه وسلم في حائط من حيطان المدينة ،‏‏‏‏ وفي يد النبي صلى الله عليه وسلم عود يضرب به بين الماء والطين ،‏‏‏‏ فجاء رجل يستفتح ،‏‏‏‏ فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ افتح له وبشره بالجنة ‏"‏‏.‏ فذهبت فإذا أبو بكر ،‏‏‏‏ ففتحت له وبشرته بالجنة ،‏‏‏‏ ثم استفتح رجل آخر فقال ‏"‏ افتح له وبشره بالجنة ‏"‏‏.‏ فإذا عمر ،‏‏‏‏ ففتحت له وبشرته بالجنة ،‏‏‏‏ ثم استفتح رجل آخر ،‏‏‏‏ وكان متكئا فجلس فقال ‏"‏ افتح ‏ {‏ له‏}‏ وبشره بالجنة ،‏‏‏‏ على بلوى تصيبه أو تكون ‏"‏‏.‏ فذهبت فإذا عثمان ،‏‏‏‏ ففتحت له ،‏‏‏‏ وبشرته بالجنة ،‏‏‏‏ فأخبرته بالذي قال‏.‏ قال الله المستعان‏.‏
ہم سے مسدد نے کہا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے عثمان بن غیاث نے ، کہا ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰاشعری نے کہ
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی ، آپ اس کو پانی اور کیچڑ میں مار رہے تھے ۔ اس دوران میں ایک صاحب نے باغ کا دروازہ کھلوانا چاہا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کے لئے دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے ۔ میں گیا تو وہاں حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ موجود تھے ، میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی پھر ایک اور صاحب نے دروازہ کھلوایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دے اور انہیں جنت کی خوشخبری سنا دے اس مرتبہ حضرت عمر رضیاللہعنہ تھے ۔ میں نے ان کے لئے بھی دروازہ کھولا اور انہیں بھی جنت کی خوشخبری سنا دی ۔ پھر ایک تیسرے صاحب نے دروازہ کھلوایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب سیدھے بیٹھ گئے ۔ پھر فرمایا دروازہ کھول دے اور جنت کی خوشخبری سنا دے ، ان آزمائشوں کے ساتھ جس سے ( دنیا میں ) انہیں دوچار ہونا پڑے گا ۔ میں گیا تو وہاں حضرت عثمان رضیاللہعنہ تھے ۔ ان کے لیے بھی میں نے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری سنائی اور وہ بات بھی بتادی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ۔ عثمان رضیاللہعنہ نے کہا خیر اللہ مددگار ہے ۔

No comments:

Post a Comment