Saturday, 18 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 6203

حدثنا مسدد ،‏‏‏‏ حدثنا عبد الوارث ،‏‏‏‏ عن أبي التياح ،‏‏‏‏ عن أنس ،‏‏‏‏ قال كان النبي صلى الله عليه وسلم أحسن الناس خلقا ،‏‏‏‏ وكان لي أخ يقال له أبو عمير ـ قال أحسبه فطيم ـ وكان إذا جاء قال ‏"‏ يا أبا عمير ما فعل النغير ‏"‏‏.‏ نغر كان يلعب به ،‏‏‏‏ فربما حضر الصلاة وهو في بيتنا ،‏‏‏‏ فيأمر بالبساط الذي تحته فيكنس وينضح ،‏‏‏‏ ثم يقوم ونقوم خلفه فيصلي بنا‏.‏
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے ابو التیاح نے اور ان سے انس رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اخلاق میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے ، میرا ایک بھائی ابو عمیر نامی تھا ۔ بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ بچہ کا دودھ چھوٹ چکا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے یا ابا عمیر مافعل النغیر اکثر ایسا ہوتا کہ نماز کا وقت ہو جاتا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں ہوتے ۔ آپ اس بستر کو بچھانے کا حکم دیتے جس پر آپ بیٹھے ہوئے ہوتے ، چنانچہ اسے جھاڑ کر اس پر پانی چھڑک دیا جاتا ۔ پھر آپ کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے ۔

No comments:

Post a Comment