Saturday, 18 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 6185

حدثنا علي بن عبد الله ،‏‏‏‏ حدثنا بشر بن المفضل ،‏‏‏‏ حدثنا يحيى بن أبي إسحاق ،‏‏‏‏ عن أنس بن مالك ،‏‏‏‏ أنه أقبل هو وأبو طلحة مع النبي صلى الله عليه وسلم ومع النبي صلى الله عليه وسلم صفية ،‏‏‏‏ مردفها على راحلته ،‏‏‏‏ فلما كانوا ببعض الطريق عثرت الناقة ،‏‏‏‏ فصرع النبي صلى الله عليه وسلم والمرأة ،‏‏‏‏ وأن أبا طلحة ـ قال أحسب ـ اقتحم عن بعيره ،‏‏‏‏ فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا نبي الله جعلني الله فداك ،‏‏‏‏ هل أصابك من شىء‏.‏ قال ‏"‏ لا ولكن عليك بالمرأة ‏"‏‏.‏ فألقى أبو طلحة ثوبه على وجهه فقصد قصدها ،‏‏‏‏ فألقى ثوبه عليها فقامت المرأة ،‏‏‏‏ فشد لهما على راحلتهما فركبا ،‏‏‏‏ فساروا حتى إذا كانوا بظهر المدينة ـ أو قال أشرفوا على المدينة ـ قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ آيبون تائبون ،‏‏‏‏ عابدون لربنا حامدون ‏"‏‏.‏ فلم يزل يقولها حتى دخل المدينة‏.‏
ہم سے علی بنعبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا اور ان سے انس بنمالک رضیاللہعنہ نے کہ
وہ اور ابوطلحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ منورہ کے لئے ) روانہ ہوئے ۔ امالمؤمنین حضرت صفیہ رضیاللہعنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں ، راستہ میں کسی جگہ اونٹنی کاپاؤں پھسل گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور امالمؤمنین گر گئے ۔ انس رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے ابوطلحہ نے اپنی سواری سے فوراً اپنے کو گرا دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اور عرض کیا یا نبی اللہ ! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کیا آپ کو کوئی چوٹ آئی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، البتہ عورت کو دیکھو ۔ چنانچہ ابوطلحہ رضیاللہعنہ نے کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لیا ، پھر امالمؤمنین کی طرف بڑھے اور اپنا کپڑا ان کے اوپر ڈال دیا ۔ اس کے بعد وہ کھڑی ہو گئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور امالمؤمنین کے لئے ابوطلحہ نے پالان مضبوط باندھا ۔ اب آپ نے سوار ہو کر پھر سفر شروع کیا ، جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے ( یا یوں کہا کہ مدینہ دکھائی دینے لگا ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور اس کی حمد بیان کرتے ہوئے “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے برابر کہتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہو گئے ۔

No comments:

Post a Comment