حدثنا إبراهيم ، أخبرنا هشام ، عن معمر ، . وقال الليث حدثني عقيل ، قال ابن شهاب فأخبرني عروة بن الزبير ، أن عائشة ، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لم أعقل أبوى إلا وهما يدينان الدين ، ولم يمر عليهما يوم إلا يأتينا فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم طرفى النهار بكرة وعشية ، فبينما نحن جلوس في بيت أبي بكر في نحر الظهيرة قال قائل هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم في ساعة لم يكن يأتينا فيها. قال أبو بكر ما جاء به في هذه الساعة إلا أمر. قال " إني قد أذن لي بالخروج ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں معمر نے ، ان سے زہری نے ( دوسری سند ) اور لیثبنسعد نے بیان کیا کہ مجھے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابنشہاب نے بیان کیا ، انہیں عروہبنزبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضیاللہعنہا نے بیان کیا کہ
جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین اسلام کا پیرو پایا اور کوئی دن ایسانہیں گزرتا تھا کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس صبح و شام تشریف نہ لاتے ہوں ، ایک دن ابوبکر رضیاللہعنہ ( والد ماجد ) گھر میں بھری دوپہر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ، یہ ایسا وقت تھا کہ اس وقت ہمارے یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا معمول نہیں تھا ، ابوبکر رضیاللہعنہ بولے کہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا کسی خاص وجہ ہی سے ہو سکتا ہے ، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے مکہ چھوڑنے کی اجازت مل گئی ہے ۔ ( ورنہ میرے دل میں آپ کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں ہوتی ) ۔
No comments:
Post a Comment