Saturday, 18 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 6063

حدثنا الحميدي ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا سفيان ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا هشام بن عروة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبيه ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت مكث النبي صلى الله عليه وسلم كذا وكذا يخيل إليه أنه يأتي أهله ولا يأتي ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قالت عائشة فقال لي ذات يوم ‏"‏ يا عائشة إن الله أفتاني في أمر استفتيته فيه ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أتاني رجلان ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فجلس أحدهما عند رجلى والآخر عند رأسي ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال الذي عند رجلى للذي عند رأسي ما بال الرجل قال مطبوب‏.‏ يعني مسحورا‏.‏ قال ومن طبه قال لبيد بن أعصم‏.‏ قال وفيم قال في جف طلعة ذكر في مشط ومشاقة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ تحت رعوفة في بئر ذروان ‏"‏‏.‏ فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ هذه البئر التي أريتها كأن رءوس نخلها رءوس الشياطين ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وكأن ماءها نقاعة الحناء ‏"‏‏.‏ فأمر به النبي صلى الله عليه وسلم فأخرج‏.‏ قالت عائشة فقلت يا رسول الله فهلا ـ تعني ـ تنشرت فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أما الله فقد شفاني ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأما أنا فأكره أن أثير على الناس شرا ‏"‏‏.‏ قالت ولبيد بن أعصم رجل من بني زريق حليف ليهود‏.‏
ہم سے عبداللہبنزبیر حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضیاللہعنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے اتنے دنوں تک اس حال میں رہے کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ جیسے آپ اپنی بیوی کے پاس جا رہے ہیں حالانکہ ایسا نہیں تھا ۔ حضرت عائشہ رضیاللہعنہا نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک دن فرمایا ، عائشہ ! میں نے اللہ تعالیٰ سے ایک معاملہ میں سوال کیا تھا اور اس نے وہ بات مجھے بتلادی ، دو فرشتے میرے پاس آئے ، ایک میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا سرکے پاس بیٹھ گیا ۔ اس نے اس سے کہا کہ جو میرے سر کے پاس تھا ان صاحب ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کیا حال ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے ۔ پوچھا ، کس نے ان پر جادو کیا ہے ؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے ، پوچھا ، کس چیز میں کیا ہے ، جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں ، اس کے اندر کنگھی ہے اور کتان کے تار ہیں ۔ اور یہ ذروان کے کنویں میں ایک چٹان کے نیچے دبا دیا ہے ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا تھا ، اس کے باغ کے درختوں کے پتے سانپوں کے پھن جیسے ڈراؤ نے معلوم ہوتے ہیں اور اس کا پانی مہندی کے نچوڑ ے ہوئے پانی کی طرح سرخ تھا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے وہ جادو نکالا گیا ۔ حضرت عائشہ رضیاللہعنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر کیوں نہیں ، ان کی مراد یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کو شہرت کیوں نہ دی ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے شفاء دے دی ہے اور میں ان لوگوں میں خواہمخواہ برائی کے پھیلانے کو پسند نہیں کرتا ۔ عائشہ رضیاللہعنہا نے بیان کیا کہ لبید بن اعصم یہود کے حلیف بنیزریق سے تعلق رکھتا تھا ۔

No comments:

Post a Comment