حدثنا سعيد بن أبي مريم ، حدثنا أبو غسان ، قال حدثني أبو حازم ، عن سهل ، أن امرأة ، عرضت نفسها على النبي صلى الله عليه وسلم فقال له رجل يا رسول الله زوجنيها. فقال " ما عندك ". قال ما عندي شىء. قال " اذهب فالتمس ولو خاتما من حديد ". فذهب ثم رجع فقال لا والله ما وجدت شيئا ، ولا خاتما من حديد ، ولكن هذا إزاري ولها نصفه ـ قال سهل وما له رداء. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " وما تصنع بإزارك إن لبسته لم يكن عليها منه شىء ، وإن لبسته لم يكن عليك منه شىء ". فجلس الرجل حتى إذا طال مجلسه قام فرآه النبي صلى الله عليه وسلم فدعاه أو دعي له فقال " ماذا معك من القرآن ". فقال معي سورة كذا وسورة كذا لسور يعددها. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " أملكناكها بما معك من القرآن ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو غسان نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا ، ان سے سہلبنسعد رضیاللہعنہ نے کہ
ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے لئے پیش کیا ۔ پھر ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ ! ان کا نکاح مجھ سے کرادیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس ( مہر کے لئے ) کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو ، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی مل جائے ۔ وہ گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا کہ اللہ کی قسم ، میں نے کوئی چیز نہیں پائی ۔ مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی ، البتہ یہ میرا تہمد میرے پاس ہے اس کا آدھا انہیں دے دیجئیے ۔ حضرت سہل رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ ان کے پاس چادر بھی نہیں تھی ۔ مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس تہمد کا کیا کرے گی ، اگریہ اسے پہن لے گی تو یہ اس قدر چھوٹا کپڑا ہے کہ پھر تو تمہارے لئے اس میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا اور اگر تم پہنو گے تو اس کے لئے کچھ نہیں رہے گا ۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے ، دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے ( اور جانے لگے ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور بلایا ، یا انہیں بلایا گیا ( راوی کو ان الفاظ میں شک تھا ) پھر آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں قرآن کتنا یاد ہے ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں چند سورتیں انہوں نے گنائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تمہارے نکاح میں اس کو اس قرآن کے بدلے دے دیا جو تمہیں یاد ہے ۔
No comments:
Post a Comment