فقال قالت عائشة معاذ الله ، والله ما وعد الله رسوله من شىء قط إلا علم أنه كائن قبل أن يموت ، ولكن لم يزل البلاء بالرسل حتى خافوا أن يكون من معهم يكذبونهم ، فكانت تقرؤها { وظنوا أنهم قد كذبوا} مثقلة.
sanad
انھوں نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضیاللہعنہا تو کہتی تھیں اللہ کی پناہ ! پیغمبر توجو وعدہ اللہ نے ان سے کیا ہے اس کو سمجھتے ہیں کہ وہ مرنے سے پہلے ضرور پورا ہو گا ۔ بات یہ کہ ہے پیغمبر وں کی آزمائش برابر ہوتی رہی ہے ۔ ( مدد آنے میں اتنی دیر ہوئی ) کہ پیغمبر ڈر گئے ۔ ایسا نہ ہو ان کی امت کے لوگ ان کو جھوٹا سمجھ لیں تو حضرت عائشہ رضیاللہعنہا اس آیت سورۃ یوسف ) کو یوں پڑھتی تھیں ۔ وظنو ا انھم قد کذبو ا ( ذال کی تشدید کے ساتھ ) ۔
No comments:
Post a Comment