حدثنا عمر بن حفص بن غياث ، حدثنا أبي ، حدثنا الأعمش ، عن المعرور بن سويد ، عن أبي ذر ـ رضى الله عنه ـ قال انتهيت إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال " والذي نفسي بيده ـ أو والذي لا إله غيره ، أو كما حلف ـ ما من رجل تكون له إبل أو بقر أو غنم لا يؤدي حقها إلا أتي بها يوم القيامة أعظم ما تكون وأسمنه ، تطؤه بأخفافها ، وتنطحه بقرونها ، كلما جازت أخراها ردت عليه أولاها ، حتى يقضى بين الناس ". رواه بكير عن أبي صالح عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ عن النبي صلى الله عليه وسلم.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے معرور بن سوید سے بیان کیا ‘ ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اس طرح کھائی ) اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ یا جن الفاظ کے ساتھ بھی آپ نے قسم کھائی ہو ( اس تاکید کے بعد فرمایا ) کوئی بھی ایسا شخص جس کے پاس اونٹ گائے یا بکری ہو اور وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اسے لایا جائے گا ۔ دنیا سے زیادہ بڑی اور موٹی تازہ کر کے ۔ پھر وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندے گی اور سینگ مارے گی ۔ جب آخری جانور اس پر سے گزر جائے گا تو پہلا جانور پھر لوٹ کر آئے گا ۔ ( اور اسے اپنے سینگ مارے گا اور کھروں سے روندے گا ) اس وقت تک ( یہ سلسلہ برابر قائم رہے گا ) جب تک لوگوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ۔ اس حدیث کو بکیر بن عبداللہ نے ابوصالح سے روایت کیا ہے ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ باب اپنے رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( زینب کے حق میں فرمایا جو عبداللہ بن مسعود کی بیوی تھی ) اس کو دو گنا ثواب ملے گا ‘ ناطہٰ جوڑنے اور صدقے کا ۔
No comments:
Post a Comment