حدثنا علي بن عبد الله ، حدثنا الوليد بن مسلم ، حدثنا الأوزاعي ، قال حدثني ابن شهاب ، عن عطاء بن يزيد ، عن أبي سعيد الخدري ـ رضى الله عنه ـ أن أعرابيا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الهجرة فقال " ويحك ، إن شأنها شديد ، فهل لك من إبل تؤدي صدقتها ". قال نعم. قال " فاعمل من وراء البحار فإن الله لن يترك من عملك شيئا ".
ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن یزید نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق پوچھا ( یعنی یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں مدینہ میں ہجرت کر آؤں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ افسوس ! اس کی تو شان بڑی ہے ۔ کیا تیرے پاس زکوٰۃ دینے کے لیے کچھ اونٹ ہیں جن کی تو زکوٰۃ دیا کرتا ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں ! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کیا ہے سمندروں کے اس پار ( جس ملک میں تو رہے وہاں ) عمل کرتا رہ اللہ تیرے کسی عمل کا ثواب کم نہیں کرے گا ۔
No comments:
Post a Comment