حدثنا محمد بن بشار ، قال حدثنا يحيى ، عن عبيد الله ، قال حدثني سعيد بن أبي سعيد ، عن أبيه ، عن أبي هريرة ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل المسجد ، فدخل رجل فصلى فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فرد وقال " ارجع فصل ، فإنك لم تصل ". فرجع يصلي كما صلى ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ارجع فصل فإنك لم تصل " ثلاثا. فقال والذي بعثك بالحق ما أحسن غيره فعلمني. فقال " إذا قمت إلى الصلاة فكبر ، ثم اقرأ ما تيسر معك من القرآن ، ثم اركع حتى تطمئن راكعا ، ثم ارفع حتى تعتدل قائما ، ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ، ثم ارفع حتى تطمئن جالسا ، وافعل ذلك في صلاتك كلها ".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اپنے باپ ابوسعید مقبری سے بیان کیا ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اس کے بعد ایک اور شخص آیا ۔ اس نے نماز پڑھی ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ۔ آپ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا کہ واپس جاؤ اور پھر نماز پڑھ ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ وہ شخص واپس گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھی اور پھر آ کر سلام کیا ۔ لیکن آپ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا کہ واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ ، کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۔ آپ نے اس طرح تین مرتبہ کیا ۔ آخر اس شخص نے کہا کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ۔ میں اس کے علاوہ اور کوئی اچھا طریقہ نہیں جانتا ، اس لیے آپ مجھے نماز سکھا دیجئیے ۔ آپ نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے کھڑا ہو تو پہلے تکبیر تحریمہ کہہ ۔ پھر آسانی کے ساتھ جتنا قرآن تجھ کو یاد ہو اس کی تلاوت کر ۔ اس کے بعد رکوع کر ، اچھی طرح سے رکوع ہو لے تو پھر سر اٹھا کر پوری طرح کھڑا ہو جا ۔ اس کے بعد سجدہ کر پورے اطمینان کے ساتھ ۔ پھر سر اٹھا اور اچھی طرح بیٹھ جا ۔ اسی طرح اپنی تمام نماز پوری کر ۔
No comments:
Post a Comment