حدثنا يحيى بن بكير ، قال حدثنا ليث بن سعد ، عن عقيل ، عن ابن شهاب ، قال أخبرني أنس ، قال بينما المسلمون في صلاة الفجر لم يفجأهم إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم كشف ستر حجرة عائشة فنظر إليهم وهم صفوف ، فتبسم يضحك ، ونكص أبو بكر رضى الله عنه على عقبيه ليصل له الصف فظن أنه يريد الخروج ، وهم المسلمون أن يفتتنوا في صلاتهم ، فأشار إليهم أتموا صلاتكم ، فأرخى الستر ، وتوفي من آخر ذلك اليوم.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انھوں نے عقیل بن خالد سے بیان کیا ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
( حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں ) مسلمان فجر کی نماز پڑھ رہے تھے ، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ سے پردہ ہٹایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو دیکھا ۔ سب لوگ صفیں باندھے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( خوشی سے ) خوب کھل کر مسکرائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ) پیچھے ہٹنا چاہا تاکہ صف میں مل جائیں ۔ آپ نے سمجھا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں ۔ صحابہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر خوشی سے اس قدر بےقرار ہوئے کہ گویا ) نماز ہی چھوڑ دیں گے ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کر لو اور پردہ ڈال لیا ۔ اسی دن چاشت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی ۔
No comments:
Post a Comment