حدثنا موسى بن إسماعيل ، قال حدثنا عبد الواحد بن زياد ، قال حدثنا عمارة بن القعقاع ، قال حدثنا أبو زرعة ، قال حدثنا أبو هريرة ، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسكت بين التكبير وبين القراءة إسكاتة ـ قال أحسبه قال هنية ـ فقلت بأبي وأمي يا رسول الله ، إسكاتك بين التكبير والقراءة ما تقول قال " أقول اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب ، اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس ، اللهم اغسل خطاياى بالماء والثلج والبرد ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انھوں نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان تھوڑی دیر چپ رہتے تھے ۔ ابوزرعہ نے کہا میں سمجھتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یوں کہا یا رسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ۔ آپ اس تکبیر اور قرآت کے درمیان کی خاموشی کے بیچ میں کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں پڑھتا ہوں اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب ، اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس ، اللهم اغسل خطاياى بالماء والثلج والبرد اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر جتنی مشرق اور مغرب میں ہے ۔ اے اللہ ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر جیسے سفید کپڑا میل سے پاک ہوتا ہے ۔ اے اللہ ! میرے گناہوں کو پانی ، برف اور اولے سے دھو ڈال ۔
No comments:
Post a Comment