حدثنا الحميدي ، حدثنا سفيان ، حدثنا الأعمش ، قال سمعت أبا وائل ، قال عدنا خبابا فقال هاجرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم نريد وجه الله ، فوقع أجرنا على الله ، فمنا من مضى لم يأخذ من أجره ، منهم مصعب بن عمير قتل يوم أحد ، وترك نمرة فإذا غطينا رأسه بدت رجلاه ، وإذا غطينا رجليه بدا رأسه ، فأمرنا النبي صلى الله عليه وسلم أن نغطي رأسه ، ونجعل على رجليه من الإذخر ، ومنا من أينعت له ثمرته فهو يهدبها.
ہم سے عبداللہبنزبیر حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے ، کہا کہ میں نے ابووائل سے سنا ، کہا کہ ہم نے خباب بن ارت رضیاللہعنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیاکہ
ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی ۔ چنانچہ ہمارا اجر اللہ کے ذمہ رہا ۔ پس ہم میں سے کوئی تو گزر گیا اور اپنا اجر ( اس دنیا میں ) نہیں لیا ۔ حضرت مصعب بن عمیر رضیاللہعنہ ( انہی ) میں سے تھے ، وہ جنگ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے اور ایک چادر چھوڑی تھی ( اس چادرکا ان کو کفن دیا گیا تھا ) اس چادرسے ہم اگر ان کا سر ڈھکتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں اور کوئی ہم میں سے ایسے ہوئے جن کے پھل خوب پکے اور وہ مزے سے چن چن کر کھا رہے ہیں ۔
No comments:
Post a Comment