حدثنا إسماعيل ، قال حدثني عبد العزيز بن أبي حازم ، عن أبيه ، عن سهل بن سعد الساعدي ، أنه قال مر رجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لرجل عنده جالس " ما رأيك في هذا ". فقال رجل من أشراف الناس ، هذا والله حري إن خطب أن ينكح ، وإن شفع أن يشفع. قال فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم مر رجل فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما رأيك في هذا ". فقال يا رسول الله هذا رجل من فقراء المسلمين ، هذا حري إن خطب أن لا ينكح ، وإن شفع أن لا يشفع ، وإن قال أن لا يسمع لقوله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا خير من ملء الأرض مثل هذا ".
ہم سے اسماعیلبنابیاویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبد العزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہلبنسعدساعدی رضیاللہعنہ نے بیان کیاکہ
ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص ابوذرغفاری رضیاللہعنہ سے جو آپ کے قریب بیٹھے ہوئے تھے ، پوچھا کہ اس شخص ( گزرے والے ) کے متعلق تم کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ یہ معزز لوگوں میں سے ہے اور اللہ کی قسم یہ اس قابل ہے کہ اگر یہ پیغام نکاح بھیجے تو اس سے نکاح کر دیا جائے ۔ اگر یہ سفارش کرے تو ان کی سفارش قبول کر لی جائے ۔ بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے ۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گزرے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے متعلق بھی پوچھا کہ ان کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا ، یا رسول اللہ ! یہ صاحب مسلمانوں کے غریب طبقہ سے ہیں اور یہ ایسے ہیں کہ اگریہ نکاح کاپیغام بھیجیں تو ان کا نکاح نہ کیا جائے ، اگر یہ کسی کی سفارش کریں تو ان کی سفارش قبول نہ کی جائے اور اگر کچھ کہیں تو ان کی بات نہ سنی جائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا ۔ اللہ کے نزدیک یہ پچھلا محتاج شخص اگلے مالدا ر شخص سے گو ویسے آدمی زمین بھر کر ہوں ، بہتر ہے ۔
No comments:
Post a Comment