حدثنا الحسن بن الربيع ، حدثنا أبو الأحوص ، عن الأعمش ، عن زيد بن وهب ، قال قال أبو ذر كنت أمشي مع النبي صلى الله عليه وسلم في حرة المدينة فاستقبلنا أحد فقال " يا أبا ذر ". قلت لبيك يا رسول الله. قال " ما يسرني أن عندي مثل أحد هذا ذهبا ، تمضي على ثالثة وعندي منه دينار ، إلا شيئا أرصده لدين ، إلا أن أقول به في عباد الله هكذا وهكذا وهكذا ". عن يمينه وعن شماله ومن خلفه. ثم مشى فقال " إن الأكثرين هم الأقلون يوم القيامة إلا من قال هكذا وهكذا وهكذا ـ عن يمينه وعن شماله ومن خلفه ـ وقليل ما هم ". ثم قال لي " مكانك لا تبرح حتى آتيك ". ثم انطلق في سواد الليل حتى توارى فسمعت صوتا قد ارتفع ، فتخوفت أن يكون قد عرض للنبي صلى الله عليه وسلم فأردت أن آتيه فذكرت قوله لي " لا تبرح حتى آتيك " فلم أبرح حتى أتاني ، قلت يا رسول الله لقد سمعت صوتا تخوفت ، فذكرت له فقال " وهل سمعته ". قلت نعم. قال " ذاك جبريل أتاني فقال من مات من أمتك لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة ". قلت وإن زنى وإن سرق قال " وإن زنى وإن سرق ".
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوالاحوص ( سلام بن سلیم ) نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے زید بنوہب نے کہ حضرت ابوذرغفار ی رضیاللہعنہ نے کہا
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ کے ساتھ مدینہ کے پتھریلے علاقہ میں چل رہا تھا کہ احد پہاڑ ہمارے سامنے آ گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے دریافت فرمایا ابوذر ! میں نے عرض کیا حاضر ہوں یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس سے بالکل خوشی نہیں ہو گی کہ میرے پاس اس احد کے برابر سونا ہو اور اس پر تین دن اس طرح گذر جائیں کہ اس میں سے ایک دینار بھی باقی رہ جائے سوا اس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے چھوڑ دوں بلکہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح خرچ کروں اپنی دائیں طرف سے ، بائیں طرف سے اور پیچھے سے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے ، اس کے بعد فرمایا زیادہ مال جمع رکھنے والے ہی قیامت کے دن مفلس ہوں گے سوا اس شخص کے جو اس مال کو اس اس طرح دائیں طرف سے ، بائیں طرف سے اور پیچھے سے خرچ کرے اور ایسے لوگ کم ہیں ۔ پھر مجھ سے فرمایا ، یہیں ٹھہرے رہو ، یہا ں سے اس وقت تک نہ جانا جب تک میں آنہ جاؤں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کی تاریکی میں چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے ۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی جو بلند تھی ۔ مجھے ڈر لگا کہ کہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دشواری نہ پیش آ گئی ہو ۔ میں نے آپ کی خدمت میں پہنچنے کا ارادہ کیا لیکن آپ کا ارشاد یاد آیا کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا ، جب تک میں نہ آ جاؤں ۔ چنانچہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے میں وہاں سے نہیں ہٹا ۔ پھر آپ آئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے ایک آواز سنی تھی ، مجھے ڈر لگا لیکن پھر آپ کا ارشاد یاد آیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم نے سنا تھا ؟ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ۔ فرمایا کہ وہ جبرائیل علیہالسلام تھے اور انہوں نے کہا کہ آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو جنت میں جائے گا ۔ میں نے پوچھا خواہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو ؟ انہوں نے کہا ہاں زنا اور چوری ہی کیوں نہ کی ہو ۔
No comments:
Post a Comment