Saturday, 18 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 6443

حدثنا قتيبة بن سعيد ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا جرير ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عبد العزيز بن رفيع ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن زيد بن وهب ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي ذر ـ رضى الله عنه ـ قال خرجت ليلة من الليالي فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي وحده ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وليس معه إنسان ـ قال ـ فظننت أنه يكره أن يمشي معه أحد ـ قال ـ فجعلت أمشي في ظل القمر فالتفت فرآني فقال ‏"‏ من هذا ‏"‏‏.‏ قلت أبو ذر جعلني الله فداءك‏.‏ قال ‏"‏ يا أبا ذر تعاله ‏"‏‏.‏ قال فمشيت معه ساعة فقال ‏"‏ إن المكثرين هم المقلون يوم القيامة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ إلا من أعطاه الله خيرا ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فنفح فيه يمينه وشماله وبين يديه ووراءه ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وعمل فيه خيرا ‏"‏‏.‏ قال فمشيت معه ساعة فقال لي ‏"‏ اجلس ها هنا ‏"‏‏.‏ قال فأجلسني في قاع حوله حجارة فقال لي ‏"‏ اجلس ها هنا حتى أرجع إليك ‏"‏‏.‏ قال فانطلق في الحرة حتى لا أراه فلبث عني فأطال اللبث ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم إني سمعته وهو مقبل وهو يقول ‏"‏ وإن سرق وإن زنى ‏"‏‏.‏ قال فلما جاء لم أصبر حتى قلت يا نبي الله جعلني الله فداءك من تكلم في جانب الحرة ما سمعت أحدا يرجع إليك شيئا‏.‏ قال ‏"‏ ذلك جبريل ـ عليه السلام ـ عرض لي في جانب الحرة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال بشر أمتك أنه من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قلت يا جبريل وإن سرق وإن زنى قال نعم‏.‏ قال قلت وإن سرق وإن زنى قال نعم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن شرب الخمر ‏"‏‏.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے عبد العزیز بن رفیع نے ، ان سے زید بنوہب نے اور ان سے ابوذرغفاری رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ
ایک روز میں باہر نکلاتو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنہا چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا ۔ ابوذررضیاللہعنہ کہتے ہیں کہ اس سے میں سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے پسند نہیں فرمائیں گے کہ آپ کے ساتھ اس وقت کوئی رہے ۔ اس لئے میں چاند کے سائے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔ اس کے بعد آپ مڑے تو مجھے دیکھا اور دریافت فرمایا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا ابوذر ! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ابوذر ! یہاں آؤ ۔ بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ جو لوگ ( دنیا میں ) زیادہ مالودولت جمع کئے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہی خسارے میں ہوں گے ۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیاہو اور انہوں نے اسے دائیں بائیں ، آگے پیچھے خرچ کیا ہو اور اسے بھلے کاموں میں لگایا ہو ۔ ( ابوذر رضیاللہعنہ نے ) بیان کیا کہ پھر تھوڑی دیر تک میں آپ کے ساتھ چلتا رہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں بیٹھ جاؤ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے چاروں طرف پتھر تھے اور فرمایا کہ یہاں اس وقت تک بیٹھے رہو جب تک میں تمہارے پاس لوٹ آؤں ۔ پھر آپ پتھریلی زمین کی طرف چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے ۔ آپ وہاں رہے اور دیر تک وہیں رہے ۔ پھر میں نے آپ سے سنا ، آپ یہ کہتے ہوئے تشریف لا رہے تھے ” چاہے چوری ہو ، چاہے زنا ہو “ ابوذر کہتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مجھ سے صبر نہیں ہو سکا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے ۔ اس پتھریلی زمین کے کنارے آپ کس سے باتیں کر رہے تھے ۔ میں نے تو کسی دوسرے کو آپ سے بات کرتے نہیں دیکھا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” یہ جبرائیل علیہالسلام تھے ۔ پتھریلی زمین ( حرہ ) کے کنارے وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ اپنی امت کو خوشخبری سنا دو کہ جو بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا ۔ میں نے عرض کیا اے جبرائیل ! خواہ اس نے چوری کی ہو ، زناکیا ہو ؟ جبرائیل علیہالسلام نے کہا ہاں ، خواہ اس نے شراب ہی پی ہو ۔ “ نضرنے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ( کہا ) ہم سے حبیب بن ابی ثابت ، اعمش اور عبد العزیز بن رفیع نے بیان کیا ، ان سے زید بنوہب نے اسی طرح بیان کیا ۔ امامبخاری رحمہ اللہ نے کہا ابوصالح نے جو اسی باب میں ابودرداء سے روایت کی ہے وہ منقطع ہے ( ابوصالح نے ابودرداء سے نہیں سنا ) اور صحیح نہیں ہے ہم نے یہ بیان کر دیا تاکہ اس حدیث کا حال معلوم ہو جائے اور صحیح ابوذر کی حدیث ہے ( جو اوپر مذکورہوئی ) کسی نے امامبخاری سے پوچھا عطاء بن یسار نے بھی تو یہ حدیث ابودرداء سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا وہ بھی منقطع ہے اور صحیح نہیں ہے ۔ آخر صحیح وہی ابوذر کی حدیث نکلی ۔ امامبخاری نے کہا ابودرداء کی حدیث کو چھوڑو ( وہ سند لینے کے لائق نہیں ہے کیونکہ وہ منقطع ہے ) امامبخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ابوذر کی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مرتے وقت آدمی لاالٰہالااللہ کہے اور توحید پر خاتمہ ہو ( تو وہ ایک نہ ایک دن ضرور جنت میں جائے گا گو کتنا ہی گنہگار ہو ) ۔ بعض نسخوں میں یہ ہے ھذا اذا تاب وقال لاالٰہ الا اللہ عند الموت یعنی ابوذرکی حدیث اس شخص کے بارے میں ہے جو گناہ سے توبہ کرے اور مرتے وقت لاالٰہالااللہ کہے ۔

No comments:

Post a Comment