Saturday, 18 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 5752

حدثنا مسدد ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا حصين بن نمير ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن حصين بن عبد الرحمن ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن سعيد بن جبير ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال خرج علينا النبي صلى الله عليه وسلم يوما فقال ‏"‏ عرضت على الأمم فجعل يمر النبي معه الرجل والنبي معه الرجلان ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والنبي معه الرهط ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والنبي ليس معه أحد ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ورأيت سوادا كثيرا سد الأفق فرجوت أن يكون أمتي ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقيل هذا موسى وقومه‏.‏ ثم قيل لي انظر‏.‏ فرأيت سوادا كثيرا سد الأفق فقيل لي انظر هكذا وهكذا‏.‏ فرأيت سوادا كثيرا سد الأفق فقيل هؤلاء أمتك ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومع هؤلاء سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب ‏"‏‏.‏ فتفرق الناس ولم يبين لهم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فتذاكر أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا أما نحن فولدنا في الشرك ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولكنا آمنا بالله ورسوله ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولكن هؤلاء هم أبناؤنا ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ هم الذين لا يتطيرون ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولا يسترقون ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولا يكتوون ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وعلى ربهم يتوكلون ‏"‏‏.‏ فقام عكاشة بن محصن فقال أمنهم أنا يا رسول الله قال ‏"‏ نعم ‏"‏‏.‏ فقام آخر فقال أمنهم أنا فقال ‏"‏ سبقك بها عكاشة ‏"‏‏.‏
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے حصین بن نمیر نے بیان کیا ، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے سعیدبنجبیر نے اور ان سے حضرت ابنعباس رضیاللہعنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ ( خواب میں ) مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں ۔ بعض نبی گزرتے اور ان کے ساتھ ( ان کی اتباع کرنے والا ) صرف ایک ہوتا ۔ بعض گزرتے اور ان کے ساتھ دو ہوتے بعض کے ساتھ پوری جماعت ہوتی اور بعض کے ساتھ کوئی بھی نہ ہوتا پھر میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جس سے آسمان کا کنارہ ڈھک گیا تھا میں سمجھا کہ یہ میری ہی امت ہو گی لیکن مجھ سے کہا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہالسلام اور ان کی امت کے لوگ ہیں پھر مجھ سے کہا کہ دیکھو میں نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جس نے آسمانوں کا کنارہ ڈھانپ لیا ہے ۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو ، ادھر دیکھو ، میں نے دیکھا کہ بہت سی جماعتیں ہیں جو تمام افق پر محیط تھیں ۔ کہا گیا کہ یہ تمہاری امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بے حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے پھر صحابہ مختلف جگہوں میں اٹھ کر چلے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے ۔ صحابہکرام رضیاللہعنہم نے آپس میں اس کے متعلق مذاکرہ کیا اور کہا کہ ہماری پیدائش تو شرک میں ہوئی تھی البتہ بعد میں ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے لیکن یہ ستر ہزار ہمارے بیٹے ہوں گے جو پیدائش ہی سے مسلمان ہیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ یہ ستر ہزار وہ لوگ ہوں گے جو بد فالی نہیں کرتے ، نہ منترسے جھاڑپھونک کراتے ہیں اور نہ داغ لگاتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ یہ سن کر حضرت عکاشہ بن محصن رضیاللہعنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ فرمایا کہ ہاں ۔ ایک دوسرے صاحب حضرت سعدبنعبادہ رضیاللہعنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گئے کہ تم سے پہلے عکاشہ کے لیے جو ہونا تھا ہو چکا ۔

No comments:

Post a Comment