حدثنا علي: حدثنا سفيان: قال لي ابن شبرمة: نظرت كم يكفي الرجل من القرآن ، فلم أجد سورة أقل من ثلاث آيات ، فقلت: لا ينبغي لأحد أن يقرأ أقل من ثلاث آيات. قال علي: قال سفيان: أخبرنا منصور ، عن إبراهيم ، عن عبد الرحمن بن يزيد: أخبره علقمة ، عن أبي مسعود ، ولقيته وهو يطوف بالبيت ، فذكر قول النبي صلى الله عليه وسلم: (أن من قرأ بالآيتين من آخر سورة البقرة في ليلة كفتاه).
ہم سے علی بنعبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا ، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابن شبرمہ نے بیان کیا ( جو کوفہ کے قاضی تھے ) کہ میں نے غور کیا کہ
نماز میں کتنا قرآن پڑھنا کافی ہو سکتا ہے ۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک سورت میں تین آیتوں سے کم نہیں ہے ۔ اس لئے میں نے یہ رائے قائم کی کہ کسی کے لئے تین آیتوں سے کم پڑھنا مناسب نہیں ۔ علی المدینی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، کہا ہم کو منصور نے خبر دی ، انہیں ابراہیم نے ، انہیں عبدالرحمٰن بنیزید نے ، انہیں علقمہ نے خبر دی اور انہیں ابومسعود رضیاللہعنہ نے ( علقمہ نے بیان کیا کہ ) میں نے ان سے ملا قات کی تو وہ بیتاللہ کا طواف کر رہے تھے ۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ( کہ آنحضرت نے فرمایا تھا ) کہ جس نے سورۃ البقرہ کے آخری کی دو آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اس کے لئے کافی ہیں ۔
No comments:
Post a Comment