Friday, 17 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 5044

حدثنا قتيبة بن سعيد ،‏‏‏‏ حدثنا جرير ،‏‏‏‏ عن موسى بن أبي عائشة ،‏‏‏‏ عن سعيد بن جبير ،‏‏‏‏ عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ في قوله ‏ {‏ لا تحرك به لسانك لتعجل به‏}‏ قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نزل جبريل بالوحى وكان مما يحرك به لسانه وشفتيه فيشتد عليه وكان يعرف منه ،‏‏‏‏ فأنزل الله الآية التي في ‏ {‏ لا أقسم بيوم القيامة‏}‏ ‏ {‏ لا تحرك به لسانك لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه * فإذا قرأناه فاتبع قرآنه‏}‏ فإذا أنزلناه فاستمع ‏ {‏ ثم إن علينا بيانه‏}‏ قال إن علينا أن نبينه بلسانك‏.‏ قال وكان إذا أتاه جبريل أطرق ،‏‏‏‏ فإذا ذهب قرأه كما وعده الله‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے ۔ ان سے سعیدبنجبیر نے اور ان سے حضرت ابنعباس رضیاللہعنہما نے
اللہ تعالیٰ کے فرمان ” آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لئے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں ۔ “ بیان کیا کہ جب جبرائیل علیہالسلام وحی لے کر نازل ہوتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے ۔ اس کی وجہ سے آپ کے لئے وحی یاد کرنے میں بہت بار پڑتا تھا اور یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہو جاتا تھا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو سورۃ ” لااقسم بیوم القیٰمۃ “ میں ہے ، نازل کی کہ آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لئے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوانا تو جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپ اس کے پیچھے پیچھے پڑھا کریں پھر آپ کی زبان سے اس کی تفسیر بیان کرادینابھی ہمارے ذمہ ہے ۔ “ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب جبرائیل علیہالسلام آتے تو آپ سر جھکالیتے اور جب واپس جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ نے آپ سے یاد کروانے کا وعدہ کیا تھا ۔ کہ تیرے دل میں جمادینا اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے پھر آپ اس کے موافق پڑھتے ۔

No comments:

Post a Comment