حدثنا سليمان بن حرب ، حدثنا شعبة ، عن سعيد بن أبي بردة ، عن أبيه ، أتيت المدينة فلقيت عبد الله بن سلام ـ رضى الله عنه ـ فقال ألا تجيء فأطعمك سويقا وتمرا ، وتدخل في بيت ثم قال إنك بأرض الربا بها فاش ، إذا كان لك على رجل حق فأهدى إليك حمل تبن ، أو حمل شعير أو حمل قت ، فلا تأخذه ، فإنه ربا. ولم يذكر النضر وأبو داود ووهب عن شعبة البيت.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ
میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے عبداللہبنسلام رضیاللہعنہ سے ملاقات کی ، انہوں نے کہا ، آو تمہیں میں ستو اور کھجور کھلاؤں گا اور تم ایک ( باعظمت ) مکان میں داخل ہو گے ( کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے گئے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابربھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ بھی سود ہے ، نضر ابوداؤد اور وہب نے ( اپنی روایتوں میں ) البیت ( گھر ) کا ذکر نہیں کیا ۔
No comments:
Post a Comment