حدثني عبد الله بن محمد ، حدثنا أزهر السمان ، عن ابن عون ، عن محمد ، عن قيس بن عباد ، قال كنت جالسا في مسجد المدينة ، فدخل رجل على وجهه أثر الخشوع ، فقالوا هذا رجل من أهل الجنة. فصلى ركعتين تجوز فيهما ثم خرج ، وتبعته فقلت إنك حين دخلت المسجد قالوا هذا رجل من أهل الجنة. قال والله ما ينبغي لأحد أن يقول ما لا يعلم وسأحدثك لم ذاك رأيت رؤيا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فقصصتها عليه ، ورأيت كأني في روضة ـ ذكر من سعتها وخضرتها ـ وسطها عمود من حديد ، أسفله في الأرض وأعلاه في السماء ، في أعلاه عروة فقيل له ارقه. قلت لا أستطيع. فأتاني منصف فرفع ثيابي من خلفي ، فرقيت حتى كنت في أعلاها ، فأخذت بالعروة ، فقيل له استمسك. فاستيقظت وإنها لفي يدي ، فقصصتها على النبي صلى الله عليه وسلم قال " تلك الروضة الإسلام ، وذلك العمود عمود الإسلام ، وتلك العروة عروة الوثقى ، فأنت على الإسلام حتى تموت ". وذاك الرجل عبد الله بن سلام. وقال لي خليفة حدثنا معاذ ، حدثنا ابن عون ، عن محمد ، حدثنا قيس بن عباد ، عن ابن سلام ، قال وصيف مكان منصف.
ہم سے عبداللہ بنمحمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ازہرسمان نے بیان کیا ، ان سے ابوعوانہ نے ، ان سے محمد نے اور ان سے قیس بن عبادنے بیان کیا کہ
میں مسجدنبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ مسجد میں داخل ہوئے جن کے چہرے پرخشوع وخضوع کے آثار ظاہر تھے لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنتی لوگوں میں سے ہیں ، پھر انہوں نے دو رکعت نماز مختصرطریقہ پر پڑھی اور باہر نکل گئے میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور عرض کیا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنت والوں میں سے ہیں ، اس پر انہوں نے کہا خدا کی قسم ! کسی کے لیے ایسی بات زبان سے نکالنا مناسب نہیں ہے جسے وہ نہ جانتا ہو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ ایسا کیوں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، میں نے ایک خواب دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا میں نے خواب یہ دیکھا تھا کہ جیسے میں ایک باغ میں ہوں ، پھر انہوں نے اس کی وسعت اور اس کے سبزہ زاروں کا ذکر کیا اس باغ کے درمیان میں ایک لوہے کا ستون ہے جس کا نچلاحصہ زمین میں ہے اور اوپر کا آسمان پر اور اس کی چوٹی پر ایک گھنا درخت ہے ، ( العروۃ ) مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں ہے اتنے میں ایک خادم آیا اور پیچھے سے میرے کپڑے اس نے اٹھائے تو میں چڑھ گیا اور جب میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے اس گھنے درخت کو پکڑ لیا مجھ سے کہا گیا کہ اس درخت کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے ، ابھی میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی ، یہ خواب جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو باغ تم نے دیکھا ہے ، وہ تواسلام ہے اور اس میں ستون اسلام کاستون ہے اور عروہ ( گھنادرخت ) العروۃ الوثقی ہے اس لیے تم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہو گے ، یہ بزرگ حضرت عبداللہبنسلام تھے اورمجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ان سے معاذ نے بیان کیا ان سے ابنعون نے بیان کیا ان سے محمدنے ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا عبداللہبنسلام رضیاللہعنہ سے انہوں نے منصف ( خادم ) کے بجائے وصیف کا لفظ ذکر کیا ۔
No comments:
Post a Comment