حدثني محمد بن يحيى أبو علي ، حدثنا شاذان ، أخو عبدان حدثنا أبي ، أخبرنا شعبة بن الحجاج ، عن هشام بن زيد ، قال سمعت أنس بن مالك ، يقول مر أبو بكر والعباس ـ رضى الله عنهما ـ بمجلس من مجالس الأنصار وهم يبكون ، فقال ما يبكيكم قالوا ذكرنا مجلس النبي صلى الله عليه وسلم منا. فدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بذلك ـ قال ـ فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وقد عصب على رأسه حاشية برد ـ قال ـ فصعد المنبر ولم يصعده بعد ذلك اليوم ، فحمد الله وأثنى عليه ، ثم قال " أوصيكم بالأنصار ، فإنهم كرشي وعيبتي ، وقد قضوا الذي عليهم ، وبقي الذي لهم ، فاقبلوا من محسنهم ، وتجاوزوا عن مسيئهم ".
مجھ سے ابوعلی محمد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدان کے بھائی شاذان نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، ہمیں شعبہ بن حجاج نے خبر دی ، ان سے ہشام بنزید نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بنمالک رضیاللہعنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
حضرت ابوبکر اور حضرت عباس رضیاللہعنہما انصار کی ایک مجلس سے گزرے ، دیکھا کہ تمام اہل مجلس رورہے ہیں ، پوچھا آپ لوگ کیوں رورہے ہیں ؟ مجلس والوں نے کہا کہ ابھی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کو یاد کر رہے تھے جس میں ہم بیٹھا کرتے تھے ( یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کا واقعہ ہے ) اس کے بعد یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی اطلاع دی ، بیان کیا کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، سرمبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی ، راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور اس کے بعد پھر کبھی منبر پر آپ تشریف نہ لا سکے ، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم و جان ہیں ، انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں لیکن اس کا بدلہ جو انہیں ملنا چاہیے تھا ، وہ ملنا ابھی باقی ہے ، اس لیے تم لوگ بھی ان کے نیک لوگوں کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرتے رہنا ۔
No comments:
Post a Comment