حدثنا عبدان ، أخبرنا عبد الله ، عن يونس ، عن الزهري ، قال سالم وقال ابن عمر ـ رضى الله عنهما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس فأثنى على الله بما هو أهله ، ثم ذكر الدجال ، فقال " إني لأنذركموه ، وما من نبي إلا أنذره قومه ، لقد أنذر نوح قومه ، ولكني أقول لكم فيه قولا لم يقله نبي لقومه ، تعلمون أنه أعور ، وأن الله ليس بأعور ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں یونس نے ، انہیں زہری نے کہ سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطبہ سنانے کھڑے ہوئے ۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی ، اس کی شان کے مطابق ثنا بیان کی ، پھر دجال کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ میں تمہیں دجال کے فتنے سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو ۔ نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا ۔ لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے بھی اپنی قوم کو نہیں بتائی تھی ، تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے ۔
No comments:
Post a Comment