Saturday, 11 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 3268

حدثنا إبراهيم بن موسى ،‏‏‏‏ أخبرنا عيسى ،‏‏‏‏ عن هشام ،‏‏‏‏ عن أبيه ،‏‏‏‏ عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت سحر النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏ وقال الليث كتب إلى هشام أنه سمعه ووعاه عن أبيه عن عائشة قالت سحر النبي صلى الله عليه وسلم حتى كان يخيل إليه أنه يفعل الشىء وما يفعله ،‏‏‏‏ حتى كان ذات يوم دعا ودعا ،‏‏‏‏ ثم قال ‏"‏ أشعرت أن الله أفتاني فيما فيه شفائي أتاني رجلان ،‏‏‏‏ فقعد أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلى ،‏‏‏‏ فقال أحدهما للآخر ما وجع الرجل قال مطبوب‏.‏ قال ومن طبه قال لبيد بن الأعصم‏.‏ قال في ماذا قال في مشط ومشاقة وجف طلعة ذكر‏.‏ قال فأين هو قال في بئر ذروان ‏"‏‏.‏ فخرج إليها النبي صلى الله عليه وسلم ثم رجع فقال لعائشة حين رجع ‏"‏ نخلها كأنها رءوس الشياطين ‏"‏‏.‏ فقلت استخرجته فقال ‏"‏ لا أما أنا فقد شفاني الله ،‏‏‏‏ وخشيت أن يثير ذلك على الناس شرا ،‏‏‏‏ ثم دفنت البئر ‏"‏‏.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، انہیں ہشام نے ، انہیں ان کے والد عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے لوٹے تھے ) جادو ہوا تھا ۔ اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھے ہشام نے لکھا تھا ، انہوں نے اپنے والد سے سنا تھا اور یاد رکھا تھا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا ۔ آپ کے ذہن میں بات ہوتی تھی کہ فلاں کام میں کر رہا ہوں حالانکہ آپ اسے نہ کر رہے ہوتے ۔ آخر ایک دن آپ نے دعا کی پھر دعا کی کہ اللہ پاک اس جادو کا اثر دفع کرے ۔ اس کے بعد آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہوا اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ تدبیر بتا دی ہے جس میں میری شفاء مقدر ہے ۔ میرے پاس دو آدمی آئے ، ایک تو میرے سر کی طرف بیٹھ گئے اور دوسرا پاؤں کی طرف ۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا ، انہیں بیماری کیا ہے ؟ دوسرے آدمی نے جواب دیا کہ ان پر جادو ہوا ہے ۔ انہوں نے پوچھا ، جادو ان پر کس نے کیا ہے ؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم یہودی نے ، پوچھا کہ وہ جادو ( ٹونا ) رکھا کس چیز میں ہے ؟ کہا کہ کنگھے میں ، کتان میں اور کھجور کے خشک خوشے کے غلاف میں ۔ پوچھا ، اور یہ چیزیں ہیں کہاں ؟ کہا بئر دوران میں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور واپس آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا ، وہاں کے کھجور کے درخت ایسے ہیں جیسے شیطان کی کھوپڑی ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، وہ ٹونا آپ نے نکلوایا بھی ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں مجھے تو اللہ تعالیٰ نے خود شفاء دی اور میں نے اسے اس خیال سے نہیں نکلوایا کہ کہیں اس کی وجہ سے لوگوں میں کوئی جھگڑا کھڑا کر دوں ۔ اس کے بعد وہ کنواں بند کر دیا گیا ۔

No comments:

Post a Comment