حدثنا عبد الله بن يوسف ، قال أخبرنا مالك ، عن هشام بن عروة ، عن أبيه ، عن زينب بنت أبي سلمة ، عن أم سلمة أم المؤمنين ، أنها قالت جاءت أم سليم امرأة أبي طلحة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ، إن الله لا يستحيي من الحق ، هل على المرأة من غسل إذا هي احتلمت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم إذا رأت الماء ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انھوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، انھوں نے ہشام بن عروہ کے واسطے سے ، انھوں نے اپنے والد عروہ بن زبیر سے ، وہ زینب بنت ابی سلمہ سے ، انھوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے ، آپ نے فرمایا کہ
ام سلیم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی عورت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حق سے حیاء نہیں کرتا ۔ کیا عورت پر بھی جب کہ اسے احتلام ہو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں اگر ( اپنی منی کا ) پانی دیکھے ( تو اسے بھی غسل کرنا ہو گا ) ۔
No comments:
Post a Comment