حدثنا موسى بن إسماعيل ، قال حدثنا أبو عوانة ، حدثنا الأعمش ، عن سالم بن أبي الجعد ، عن كريب ، مولى ابن عباس عن ابن عباس ، عن ميمونة بنت الحارث ، قالت وضعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم غسلا وسترته ، فصب على يده ، فغسلها مرة أو مرتين ـ قال سليمان لا أدري أذكر الثالثة أم لا ـ ثم أفرغ بيمينه على شماله ، فغسل فرجه ، ثم دلك يده بالأرض أو بالحائط ، ثم تمضمض واستنشق ، وغسل وجهه ويديه ، وغسل رأسه ، ثم صب على جسده ، ثم تنحى فغسل قدميه ، فناولته خرقة ، فقال بيده هكذا ، ولم يردها.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے اعمش نے سالم بن ابی الجعد کے واسطہ سے بیان کیا ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، انھوں نے میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے ، انھوں نے کہا کہ
میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ( غسل کا ) پانی رکھا اور پردہ کر دیا ، آپ نے ( پہلے غسل میں ) اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور اسے ایک یا دو بار دھویا ۔ سلیمان اعمش کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں راوی ( سالم بن ابی الجعد ) نے تیسری بار کا بھی ذکر کیا یا نہیں ۔ پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈالا ۔ اور شرمگاہ دھوئی ، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر رگڑا ۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے اور ہاتھوں کو دھویا ۔ اور سر کو دھویا ۔ پھر سارے بدن پر پانی بہایا ۔ پھر ایک طرف سرک کر دونوں پاؤں دھوئے ۔ بعد میں میں نے ایک کپڑا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اس طرح کہ اسے ہٹاؤ اور آپ نے اس کپڑے کا ارادہ نہیں فرمایا ۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے اعمش نے سالم بن ابی الجعد کے واسطہ سے بیان کیا ، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ، انھوں نے میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے ، انھوں نے کہا کہ
میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ( غسل کا ) پانی رکھا اور پردہ کر دیا ، آپ نے ( پہلے غسل میں ) اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور اسے ایک یا دو بار دھویا ۔ سلیمان اعمش کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں راوی ( سالم بن ابی الجعد ) نے تیسری بار کا بھی ذکر کیا یا نہیں ۔ پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈالا ۔ اور شرمگاہ دھوئی ، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر رگڑا ۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے اور ہاتھوں کو دھویا ۔ اور سر کو دھویا ۔ پھر سارے بدن پر پانی بہایا ۔ پھر ایک طرف سرک کر دونوں پاؤں دھوئے ۔ بعد میں میں نے ایک کپڑا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اس طرح کہ اسے ہٹاؤ اور آپ نے اس کپڑے کا ارادہ نہیں فرمایا ۔
No comments:
Post a Comment