حدثنا عمرو بن عاصم ، حدثنا همام ، عن قتادة ، عن أنس ، أن رجلا ، من أهل البادية أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله متى الساعة قائمة قال " ويلك وما أعددت لها ". قال ما أعددت لها إلا أني أحب الله ورسوله. قال " إنك مع من أحببت ". فقلنا ونحن كذلك. قال " نعم ". ففرحنا يومئذ فرحا شديدا ، فمر غلام للمغيرة وكان من أقراني فقال " إن أخر هذا فلن يدركه الهرم حتى تقوم الساعة ". واختصره شعبة عن قتادة سمعت أنسا عن النبي صلى الله عليه وسلم.
ہم سے عمرو ابن عاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس نے کہ
ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ا ورپوچھا یا رسول اللہ قیامت کب آئے گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس ( ویلک ) تم نے اس قیامت کے لئے کیا تیاری کر لی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کے لئے توکوئی تیاری نہیں کی ہے البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو ، جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔ ہم نے عرض کیا اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا ؟ فرمایا کہ ہاں ۔ ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے ۔ پھر مغیرہ کے ایک غلام وہاں سے گزرے وہ میرے ہم عمر تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی ۔
No comments:
Post a Comment