حدثنا آدم ، حدثنا شعبة ، حدثنا الحكم ، عن إبراهيم ، عن الأسود ، عن عائشة ـ رضى الله عنها ـ قالت أراد النبي صلى الله عليه وسلم أن ينفر فرأى صفية على باب خبائها كئيبة حزينة لأنها حاضت فقال " عقرى حلقى ـ لغة قريش ـ إنك لحابستنا " ثم قال " أكنت أفضت يوم النحر ". يعني الطواف قالت نعم. قال " فانفري إذا ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حکم بن عتیبہ نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود نے اور ان سے حضرت عائشہ رضیاللہعنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج سے ) واپسی کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضیاللہعنہا اپنے خیمے کے دروازہ پر رنجیدہ کھڑی ہیں کیونکہ وہ حائضہ ہو گئی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ۔ عقریٰ حلقیٰ ۔ یہ قریش کامحاورہ ہے ۔ اب تم ہمیں رو کو گی ! پھر دریافت فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طوافافاضہ کر لیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ فرمایا کہ پھر چلو ۔
No comments:
Post a Comment