Saturday, 18 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 6156

حدثنا يحيى بن بكير ،‏‏‏‏ حدثنا الليث ،‏‏‏‏ عن عقيل ،‏‏‏‏ عن ابن شهاب ،‏‏‏‏ عن عروة ،‏‏‏‏ عن عائشة ،‏‏‏‏ قالت إن أفلح أخا أبي القعيس استأذن على بعد ما نزل الحجاب فقلت والله لا آذن له حتى أستأذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فإن أخا أبي القعيس ليس هو أرضعني ،‏‏‏‏ ولكن أرضعتني امرأة أبي القعيس‏.‏ فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله إن الرجل ليس هو أرضعني ،‏‏‏‏ ولكن أرضعتني امرأته‏.‏ قال ‏"‏ ائذني له ،‏‏‏‏ فإنه عمك ،‏‏‏‏ تربت يمينك ‏"‏‏.‏ قال عروة فبذلك كانت عائشة تقول حرموا من الرضاعة ما يحرم من النسب‏.‏
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیثبنسعد نے بیان ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابنشہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضیاللہعنہا نے بیان کیا کہ
ابو قعیس کے بھائی افلح ( میرے رضاعی چچانے ) مجھ سے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد اندر آنے کی اجازت چاہی ، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں گے میں اندر آنے کی اجازت نہیں دوں گی ۔ کیونکہ ابو قعیس کے بھائی نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابو القعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا ، دودھ تو ان کی بیوی نے پلایا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو ، کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں ، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے ۔ عروہ نے کہا کہ اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضیاللہعنہا کہتی تھیں کہ جتنے رشتے خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہی سمجھو ۔

No comments:

Post a Comment