Saturday, 18 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 6148

حدثنا قتيبة بن سعيد ،‏‏‏‏ حدثنا حاتم بن إسماعيل ،‏‏‏‏ عن يزيد بن أبي عبيد ،‏‏‏‏ عن سلمة بن الأكوع ،‏‏‏‏ قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى خيبر فسرنا ليلا ،‏‏‏‏ فقال رجل من القوم لعامر بن الأكوع ألا تسمعنا من هنيهاتك ،‏‏‏‏ قال وكان عامر رجلا شاعرا ،‏‏‏‏ فنزل يحدو بالقوم يقول اللهم لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا فاغفر فداء لك ما اقتفينا وثبت الأقدام إن لاقينا وألقين سكينة علينا إنا إذا صيح بنا أتينا وبالصياح عولوا علينا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ من هذا السائق ‏"‏‏.‏ قالوا عامر بن الأكوع‏.‏ فقال ‏"‏ يرحمه الله ‏"‏‏.‏ فقال رجل من القوم وجبت يا نبي الله ،‏‏‏‏ لو أمتعتنا به‏.‏ قال فأتينا خيبر فحاصرناهم حتى أصابتنا مخمصة شديدة ،‏‏‏‏ ثم إن الله فتحها عليهم ،‏‏‏‏ فلما أمسى الناس اليوم الذي فتحت عليهم أوقدوا نيرانا كثيرة‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ما هذه النيران ،‏‏‏‏ على أى شىء توقدون ‏"‏‏.‏ قالوا على لحم‏.‏ قال ‏"‏ على أى لحم ‏"‏‏.‏ قالوا على لحم حمر إنسية‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أهرقوها واكسروها ‏"‏‏.‏ فقال رجل يا رسول الله أو نهريقها ونغسلها قال ‏"‏ أو ذاك ‏"‏‏.‏ فلما تصاف القوم كان سيف عامر فيه قصر ،‏‏‏‏ فتناول به يهوديا ليضربه ،‏‏‏‏ ويرجع ذباب سيفه فأصاب ركبة عامر فمات منه ،‏‏‏‏ فلما قفلوا قال سلمة رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم شاحبا‏.‏ فقال لي ‏"‏ ما لك ‏"‏‏.‏ فقلت فدى لك أبي وأمي زعموا أن عامرا حبط عمله‏.‏ قال ‏"‏ من قاله ‏"‏‏.‏ قلت قاله فلان وفلان وفلان وأسيد بن الحضير الأنصاري‏.‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كذب من قاله ،‏‏‏‏ إن له لأجرين ـ وجمع بين إصبعيه ـ إنه لجاهد مجاهد ،‏‏‏‏ قل عربي نشأ بها مثله ‏"‏‏.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے ، ان سے برید ابن ابی عبید نے اور ان سے سلمہبناکوع رضیاللہعنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ خیبر میں گئے اور ہم نے رات میں سفر کیا ، اتنے میں مسلمانوں کے آدمی نے عامر بن اکوع رضی للہ عنہ سے کہا کہ اپنے کچھ شعر اشعار سناؤ ۔ راوی نے بیان کیا کہ عامر شاعر تھے ۔ وہ لوگوں کو اپنی حدی سنانے لگے ۔ ” اے اللہ ! اگر تونہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ نہ دے سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے ۔ ہم تجھ پر فدا ہوں ، ہم نے جو کچھ پہلے گناہ کئے ان کو تو معاف کر دے اور جب ( دشمن سے ) ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہم پر سکون نازل فرما ۔ جب ہمیں جنگ کے لئے بلایا جاتا ہے ، تو ہم موجود ہو جاتے ہیں اور دشمن نے بھی پکارکر ہم سے نجات چاہی ہے ۔ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون اونٹوں کو ہانک رہا ہے جو حدی گا رہا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ عامر بن اکوع ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پاک اس پر رحم کرے ۔ ایک صحابی یعنی عمر رضیاللہعنہ نے کہا ، یا رسول اللہ ! اب تو عامر شہید ہوئے ۔ کاش اور چند روز آپ ہم کو عامر سے فائدہ اٹھانے دیتے ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم خیبر آئے اور اس کو گھیر لیا اس گھراؤ میں ہم شدید فاقوں میں مبتلا ہوئے ، پھر اللہ تعالیٰ نے خیبر والوں پر ہم کو فتح عطافرمائی جس دن ان پر فتح ہوئی اس کی شام کو لوگوں نے جگہ جگہ آگ جلائی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ آگ کیسی ہے ، کس کام کے لئے تم لوگوں نے یہ آگ جلائی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ گوشت پکانے کے لئے ۔ اس پر آپ نے دریافت فرمایا کس چیز کے گوشت کے لئے ؟ صحابہ نے کہا کہ بستی کے پالتو گدھوں کا گوشت پکانے کے لیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، گوشت کو برتنوں میں سے پھینک دو اور برتنوں کو توڑ دو ۔ ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم گوشت تو پھینک دیں گے ، مگر برتن توڑنے کے بجائے اگر دھو لیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا یوں ہی کر لو ۔ جب لوگوں نے جنگ کی صفبندی کر لی تو عامر ( ابن اکوع شاعر ) نے اپنی تلوار سے ایک یہودی پر وار کیا ، ان کی تلوار چھوٹی تھی اس کی نوک پلٹ کر خود ان کے گھٹنوں پر لگی اور اس کی وجہ سے ان کی شہادت ہو گئی ۔ جب لوگ واپس آنے لگے تو سلمہ ( عامر کے بھائی ) نے بیان کیا کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میرے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے ۔ دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں ، لوگ کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے ۔ ( کیونکہ ان کی موت خود ان کی تلوار سے ہوئی ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کس نے کہا ؟ میں نے عرض کیا ، فلاں ، فلاں ، فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس نے یہ بات کہی اس نے جھوٹ کہا ہے انہیں تو دوہرا اجر ملے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ کیا کہ وہ عابد بھی تھا اور مجاہد بھی ( توعبادت اور جہاد دونوں کا ثواب اس نے پایا ) عامرکی طرح تو بہت کم بہادر عرب میں پیدا ہوئے ہیں ( وہ ایسا بہادر اور نیک آدمی تھا )

No comments:

Post a Comment