Saturday, 18 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 6141

حدثني محمد بن المثنى ،‏‏‏‏ حدثنا ابن أبي عدي ،‏‏‏‏ عن سليمان ،‏‏‏‏ عن أبي عثمان ،‏‏‏‏ قال عبد الرحمن بن أبي بكر ـ رضى الله عنهما جاء أبو بكر بضيف له أو بأضياف له ،‏‏‏‏ فأمسى عند النبي صلى الله عليه وسلم فلما جاء قالت أمي احتبست عن ضيفك ـ أو أضيافك ـ الليلة‏.‏ قال ما عشيتهم فقالت عرضنا عليه ـ أو عليهم فأبوا أو ـ فأبى ،‏‏‏‏ فغضب أبو بكر فسب وجدع وحلف لا يطعمه ،‏‏‏‏ فاختبأت أنا فقال يا غنثر‏.‏ فحلفت المرأة لا تطعمه حتى يطعمه ،‏‏‏‏ فحلف الضيف ـ أو الأضياف ـ أن لا يطعمه أو يطعموه حتى يطعمه ،‏‏‏‏ فقال أبو بكر كأن هذه من الشيطان فدعا بالطعام فأكل وأكلوا فجعلوا لا يرفعون لقمة إلا ربا من أسفلها أكثر منها ،‏‏‏‏ فقال يا أخت بني فراس ما هذا فقالت وقرة عيني إنها الآن لأكثر قبل أن نأكل فأكلوا وبعث بها إلى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر أنه أكل منها‏.‏
مجھ سے محمدبن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے سلیمان ابن طرفان نے ، ان سے ابوعثمان نہدی نے کہ عبدالرحمٰن بن ابیبکر رضیاللہعنہما نے بیان کیا کہ
حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ اپنا ایک مہمان یا کئی مہمان لے کر گھر آئے ۔ پھر آپ شام ہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ، جب وہ لوٹ کر آئے تو میری والدہ نے کہا کہ آج اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر آپ کہاں رہ گئے تھے ۔ ابوبکر رضیاللہعنہ نے پوچھا کیا تم نے ان کوکھانا نہیں کھلایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کھانا ان کے سامنے پیش کیا لیکن انہوں نے انکار کیا ۔ یہ سن کر ابوبکر رضیاللہعنہ کو غصہ آیا اور انہوں نے ( گھر والوںکو ) برا بھلا کہا اور دکھ کا اظہار کیا اور قسم کھا لی کہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا ۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں توڈر کے مارے چھپ گیا تو آپ نے پکارا کہ اے پاجی ! کدھر ہے تو ادھر آ ۔ میری والدہ نے بھی قسم کھا لی کہ اگر وہ کھانا نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گی ۔ اس کے بعد مہمانوں نے بھی قسم کھا لی کہ اگر ابوبکر نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گے ۔ آخر حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ نے کہا کہ یہ غصہ کرنا شیطانی کام تھا ، پھر آپ نے کھانا منگوایا اور خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھایا ( اس کھانے میں یہ برکت ہوئی ) جب یہ لوگ ایک لقمہ اٹھاتے تو نیچے سے کھانا اور بھی بڑھ جاتا تھے ۔ ابوبکر رضیاللہعنہ نے کہا اے بنیفراس کی بہن ! یہ کیا ہو رہا ہے ، کھاناتواور بڑھ گیا ۔ انہوں نے کہا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ! اب یہ اس سے بھی زیادہ ہو گیا ۔ جب ہم نے کھانا کھایا بھی نہیں تھا ۔ پھر سب نے کھایا اور اس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کھانے میں سے کھایا ۔

No comments:

Post a Comment