حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأويسي ، حدثنا مالك ، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة ، عن أنس بن مالك ، قال كنت أمشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه برد نجراني غليظ الحاشية ، فأدركه أعرابي فجبذ بردائه جبذة شديدة ـ قال أنس فنظرت إلى صفحة عاتق النبي صلى الله عليه وسلم وقد أثرت بها حاشية الرداء من شدة جبذته ـ ثم قال يا محمد مر لي من مال الله الذي عندك. فالتفت إليه فضحك ، ثم أمر له بعطاء.
ہم سے عبدالعزیز بنعبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے اماممالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بنعبداللہ ابن ابی طلحہ نے اور ان سے حضرت انس بنمالک رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا ۔ آپ کے جسم پر ایک نجرانی چادر تھی ، جس کا حاشیہ موٹاتھا ۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی ۔ حضرت انس رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شانے کو دیکھا کہ زور سے کھینچنے کی وجہ سے ، اس پر نشان پڑ گئے ۔ پھر اس نے کہا اے محمد ! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے دیئے جانے کا حکم فرما یئے ۔ اس وقت میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مڑ کر دیکھا تو آپ مسکرادیئے پھر آپ نے اسے دیئے جانے کا حکم فرمایا ۔
No comments:
Post a Comment