Saturday, 18 February 2017

Sahih Bukhari Hadees No 6087

حدثنا موسى ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا إبراهيم ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا ابن شهاب ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن حميد بن عبد الرحمن ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أن أبا هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال أتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال هلكت وقعت على أهلي في رمضان‏.‏ قال ‏"‏ أعتق رقبة ‏"‏‏.‏ قال ليس لي‏.‏ قال ‏"‏ فصم شهرين متتابعين ‏"‏‏.‏ قال لا أستطيع‏.‏ قال ‏"‏ فأطعم ستين مسكينا ‏"‏‏.‏ قال لا أجد‏.‏ فأتي بعرق فيه تمر ـ قال إبراهيم العرق المكتل فقال ‏"‏ أين السائل تصدق بها ‏"‏‏.‏ قال على أفقر مني والله ما بين لابتيها أهل بيت أفقر منا‏.‏ فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه‏.‏ قال ‏"‏ فأنتم إذا ‏"‏‏.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بنسعد نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابنشہاب نے خبر دی ، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے ابوہریرہ رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ
ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میں تو تباہ ہو گیا اپنی بیوی کے ساتھ رمضان میں ( روزہ کی حالت میں ) ہمبستری کر لی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر ۔ انہوں نے عرض کیا میرے پاس کوئی غلام نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے کے روزے رکھ ۔ انہوں نے عرض کیا اس کی مجھ میں طاقت نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا ۔ انہوں نے عرض کیا کہ اتنا بھی میرے پاس نہیں ہے ۔ بیان کیا کہ پھر کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا ۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ ” عرق “ ایک طرح کا ( نو کلوگرام کا ) ایک پیمانہ تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پوچھنے والا کہاں ہے ؟ لو اسے صدقہ کر دینا ۔ انہوں نے عرض کی مجھ سے جو زیادہ محتاج ہو اسے دوں ؟ اللہ کی قسم مدینہ کے دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ بھی ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے اور آپ کے سامنے کے دندان مبارک کھل گئے ، اس کے بعد فرمایا ، اچھا پھر تو تم میاں بیوی ہی اسے کھا لو ۔

No comments:

Post a Comment