حدثنا عبد الله بن يوسف ، أخبرنا مالك ، عن أبي حازم ، عن سهل بن سعد ، قال جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت إني وهبت من نفسي. فقامت طويلا فقال رجل زوجنيها ، إن لم تكن لك بها حاجة. قال " هل عندك من شىء تصدقها ". قال ما عندي إلا إزاري. فقال " إن أعطيتها إياه جلست لا إزار لك ، فالتمس شيئا ". فقال ما أجد شيئا. فقال " التمس ولو خاتما من حديد ". فلم يجد. فقال " أمعك من القرآن شىء ". قال نعم سورة كذا وسورة كذا لسور سماها. فقال " زوجناكها بما معك من القرآن ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے اماممالک نے خبر دی ، انہیں ابوحازم مسلم بن دینار نے اور ان سے سہلبنسعدساعدی رضیاللہعنہ نے بیان کیاکہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں ۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہی ۔ اتنے میں ایک مرد نے کہا کہ اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے فرما دیں ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس انہیں مہر میں دینے کے لئے کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس اس تہمد کے سوا اور کچھ نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنا یہ تہمد اس کو دے دوگے تو تمہارے پاس پہننے کے لئے تہمد بھی نہیں رہے گا ۔ کوئی اور چیز تلاش کر لو ۔ اس مرد نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ کچھ تو تلاش کرو ، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی ! اسے وہ بھی نہیں ملی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ۔ کیا تمہارے پاس کچھ قرآنمجید ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ! فلاں فلاں سورتیں ہیں ، ان سورتوں کا انہوں نے نام لیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے ان سورتوں کے کے بدلے کیا جو تم کو یاد ہیں ۔
No comments:
Post a Comment